ممبئی،18؍ مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی کچھ ریاستوں میں ضمنی انتخاب کے نتائج اپنے حق میں نہیں ہونے کے باوجود بی جے پی مایوس نہیں ہے اور اس مہاراشٹر کے بھنڈارا۔گوندیا اور پال گھر لوک سبھا سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں جیت کا پورا بھروسہ ہے۔حالانکہ اپوزیشن پارٹی کانگریس کو لگتا ہے کہ حالیہ نتائج ’بدلتے سیاسی منظر نامے‘کے اشارے ہیں۔بھنڈارا۔گوندیا سیٹ سے بھاجپا ایم پی پانا پٹولے کے گزشتہ سال استعفی دے کر کانگریس میں چلے جانے کی وجہ سے یہاں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔وہیں پالگھر سے بی جے پی کے رہنما چنتامن واگا کی اس سال جنوری میں موت ہونے کی وجہ سے یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ کانگریس کے سینئر لیڈر پتنگ راؤکے انتقال کی وجہ سے سانگلی کی پلس۔کانڈے گاؤں اسمبلی سیٹ بھی خالی ہے۔ان سیٹوں پر ضمنی انتخابات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا ہے۔غور طلب ہے کہ 2019لوک سبھا انتخابات سے پہلے اتر پردیش کے گورکھپور اور پھول پور اور بہار کے ارریہ لوک سبھا سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے۔گزشتہ ماہ راجستھان میں دو لوک سبھا سیٹوں اور ایک اسمبلی سیٹ پر الیکشن میں کانگریس نے بازی مار لی ہے۔اتنا ہی نہیں مدھیہ پردیش میں دو اسمبلی حلقوں میں ہوئے انتخابات میں بھی کانگریس اپنی سیٹیں بچانے میں کامیاب رہی ہے۔مہاراشٹر کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہاکہ الگ الگ ریاستوں میں مسئلے گرچہ الگ الگ ہوں، لیکن نتیجہ بتاتے ہیں کہ عوام اپنے فیصلے پر متفق ہے کہ بھاجپا غریب مخالف اور وہ بے روزگاری سے نمٹنے اور غریبوں اور کسانوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے خلاف بہت غصہ ہے اور مہاراشٹر میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا۔تاہم بی جے پی ترجمان مادھو بھنڈاری کا کہنا ہے کہ راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں شکست کے وجوہات مختلف ہیں۔بھنڈاری نے کہاکہ کانگریس مدھیہ پردیش میں اپنی دو اسمبلی سیٹوں کو بچانے میں کامیاب رہی، لیکن وہاں جیت کا فرق کم ہوا ہے۔انہوں نے تاہم یہ تسلیم کیا کہ راجستھان میں کانگریس نے ان سے تین سیٹیں چھین لیں، جبکہ اتر پردیش میں پارٹی کو جھٹکا لگا ہے۔